اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حماس نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں سے متعلق انتظامی اختیارات اسرائیلی فوج سے پولیس کو منتقل کرنے کا اسرائیلی وزیر جنگ کا فیصلہ ایک خطرناک قدم ہے، جس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے عملی الحاق اور تسلط کو مستحکم کرنا ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ ان اختیارات کو اسرائیلی پولیس کے حوالے کرنا، جو انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر کے ماتحت ہے، مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کو وسعت دینے اور فلسطینی عوام، ان کی املاک اور مقدس مقامات کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔
حماس نے اسرائیلی حکومت کے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جن کے ذریعے مقبوضہ مغربی کنارے کی قانونی اور سیاسی حیثیت تبدیل کرنے، الحاق اور یہودیانے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حماس نے عرب اور اسلامی ممالک، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی الحاق اور یہودی آبادکاری کے منصوبوں کے خلاف فوری سیاسی و سفارتی کارروائی کی جائے اور ان اقدامات کو روکنے کے لیے اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالا جائے۔
حماس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صرف مذمتی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ اسرائیلی اقدامات روکنے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو جواب دہ بنانے اور فلسطینی عوام، ان کی سرزمین اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔
آپ کا تبصرہ